اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کسی ایک ملک کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر کنٹرول، گزرنے والی کشتیوں سے محصولات وصول کرنے یا انہیں نشانہ بنانے کا اختیار دینا عالمی جہازرانی کے لیے خطرناک نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس آبنائے ہرمز پر کنٹرول قائم کرنے کے لیے کوئی قابلِ قبول قانونی جواز موجود نہیں ہے اور ایسی صورت حال دنیا کے دیگر حساس سمندری راستوں، بالخصوص بحیرہ جنوبی چین، میں بھی کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے اور اگر ایران مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو واشنگٹن بھی اسی جذبے کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ تہران نے اب تک مذاکرات میں سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کیا، اور خبردار کیا کہ بصورت دیگر امریکہ اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے اندر فوجی اہداف پر حملوں کا سلسلہ گیارہویں رات بھی جاری رہا، جبکہ ایرانی ذرائع ابلاغ نے تہران، چابہار، کنارک اور بوشہر میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات دی ہیں۔ اس کے ساتھ بحیرہ احمر اور دیگر سمندری راستوں پر بڑھتی کشیدگی نے عالمی بحری نقل و حمل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کی آسیان اجلاس کے موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے بھی ملاقات متوقع ہے، جس میں علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ روبیو اس دوران "کواڈ" اتحاد کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جو بحیرہ جنوبی چین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں منعقد ہو رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ